بھٹکل:19؍اگست(ایس اؤ نیوز) تعلقہ میں سیلاب کے کم ہونے کے بعد بارش سےہونے والے نقصانات ظاہر ہونےلگے ہیں۔ موسلا دھار بارش اور طوفانی ہواؤں سے گرنے والے گھروں کی مرمت و درستی ایک طرف تو کیچڑ میں تبدیل ہوئی زرعی زمین اور فصل کی بربادی دوسری دکھ بھری کہانی سنارہی ہیں۔
تعلقہ کے بینگرے ، المنے ، مرڈیشور سمیت کئی علاقوں کے کھیتوں میں نالوں کا پانی گھس جانے کے نتیجےمیں قریب 50ایکڑ سے زائد زمین پر کھڑی دھان کی فصل برباد ہوکر سڑ گل گئی ہے۔ ایک نظر کھیتوں پر دوڑائیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہاں کوئی کھیتی ہی نہیں کی گئی ہے۔ کسانوں کی طرف سے خریدے گئے بیج، زرخیزی کی محنت سب کچھ پانی میں بہہ گیاہے۔ سال بھر غذا کی فراہمی کرنےو الے کھیت اس طرح گدلے ہوجائیں تو کسانوں کی ابتر حالات کا کوئی جواب نہیں مل پارہاہے۔
ساحلی پٹی پر کھیتی کی زمین بہت ہی کم ہے ، کسانوں کے پاس سینکڑوں ایکڑ زرعی زمین نہیں ہے۔ چھوٹی سی زمین پر ہی یہاں کے کسان کھیتی کرتےرہے ہیں۔ لیکن نفع نقصان کی وجہ سے کئی کسانوں نے کھیتوں میں ہی گھروں کی تعمیر کرتےہوئے دیگر ذرائع کی تلاش میں ہیں تاکہ زندگی کا گزارہ ہوسکے۔ ان وجوہات کی بنا پر ساحلی پٹی پر دن بدن زرعی زمین سکڑتی جارہی ہے۔کسان پہلے سے زیادہ ابتر حالات سے گزر رہاہے۔ انہیں دوبارہ کھیتی کی طرف راغب کرنے میں وقت کی حکومتیں بھی ناکام ہورہی ہیں۔ ساحلی پٹی کےکسانوں کوا کثر نظر انداز کیا جاتارہاہے۔ کسان کا نام آتےہی منڈیا ، میسور کی طرف دیکھنا ساحلی سیاست دانوں کی عادت بن گئی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہاں کے زرعی مزدور سیاست دانوں کے چیلے بن جانے سے ان کے لئے جدوجہد کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ کسانوں کے آنسو سڑی ہوئی دھان کی فصل سے ٹپکتے ہوئے پانی کی طرح زمین میں جذب ہورہےہیں ان آنسوؤوں کے دکھڑے کو سمجھنے والا کوئی نظر نہیں آرہاہے ۔یہاں کے بد قسمت کسانوں کا کہنا ہے کہ بینگرے علاقے میں قریب 8-10ایکڑ زرعی زمین مکمل طورپر برباد ہوگئی ہے۔ سب کچھ پانی میں بہہ گیاہے ۔ بینگرے گرام پنچایت کے صدر وینکٹیا بھئیرومنے نے مانگ کی ہے کہ حکومتیں یہاں کےکسانوں کی مشکلات پر توجہ دیں۔